
رینالہ خورد (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار)رینالہ خورد میں احاطہ کلرک پر احاطہ الاٹمنٹ کروانے کے نام پر دیہاتی شہری سے لاکھوں روپے رشوت وصول کرنے کا الزام سامنے آیا ہے، جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے احاطوں کی الاٹمنٹ پر پابندی عائد ہے۔ متاثرہ شہری نے ملزم کے خلاف کارروائی کے لیے ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ کو درخواست دے دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق محمد اشرف، جو بیک وقت احاطہ کلرک، کالونی کلرک اور واصل باقی کے عہدوں پر فرائض انجام دے رہا ہے، پر سائلین سے مبینہ طور پر رشوت لینے اور لوٹ مار کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان دفاتر میں رشوت اور کرپشن کا بازار گرم ہے۔
درخواست گزار عبدالجبار، رہائشی چک نمبر 9 ون ایل، نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ محمد اشرف نے اسے احاطہ الاٹ کروانے کا جھانسہ دے کر پہلے 2 لاکھ روپے وصول کیے اور بعد ازاں مختلف اوقات میں مزید 20 ہزار اور 17 ہزار روپے بھی وصول کیے۔ تاہم رقم لینے کے باوجود نہ تو احاطہ الاٹ کیا گیا اور نہ ہی رقم واپس کی گئی، بلکہ اسے کئی ماہ سے ٹال مٹول کا شکار بنایا جا رہا ہے۔
متاثرہ شہری نے ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ کو دی گئی درخواست میں رقم کی واپسی اور محمد اشرف کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اوکاڑہ ( کیو این این ورلڈ/بیورو چیف ملک ظفر) انجینئر راؤ وسیم عابد اور راؤ عاصم تسلیم کی شادی کی پُرمسرت تقریب منعقد ہوئی، جس میں صوبائی وزیر سردار شیر علی گورچانی نے شرکت کی اور دولہا بھائیوں کو زندگی کے اس نئے اور خوبصورت سفر کے آغاز پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
صوبائی وزیر نے اس موقع پر دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس نئے جوڑے کی زندگی کو خوشیوں، لازوال محبتوں اور ڈھیروں کامیابیوں سے بھر دے۔ انہوں نے کہا کہ شادی زندگی کا ایک اہم مرحلہ ہے اور ہماری دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔
تقریب میں عزیز و اقارب اور معززین کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جن میں راؤ عارف، راؤ سجاد، راؤ عامر، راؤ کلیم، ذیشان مغل، راؤ اسد (سعودی عرب)، راؤ قاسم (سافٹ ویئر انجینئر)، کیمیکل انجینئر علی حسن، کیمیکل انجینئر ثقلین عباس اور ایم ڈی ابراہیم فائر پروٹیکشن ارشد علی شامل تھے۔
اس کے علاوہ انجینئر محمد وقار (ملتان)، علی حسن چینوٹی، علی حسن، فیضان علی، حیدر عباس خان فاروق آبادی، ٹرانسپورٹر عرفان علی، نعمان راؤ، میثم بنی، رضائے حسین لاہوری، سردار امتیاز علی بھٹی، عمار بخاری، رانا اکرم ہڑپہ اور مشتاق علی ایبٹ آبادی بھی شریک ہوئے۔
دیگر شرکاء میں چوہدری طارق ہڑپہ، یاسر ملک اوکاڑوی، محمد فیصل سمندری، چوہدری سہیل خانقاہ ڈوگراں، ساجد علی مظفرگڑھی، سجاد حسین، مدثر علی، سلطان (گولڈن گگو منڈی)، محمد نواز اوکاڑہ، عامر ریحان شاہ لاہوری، ملک ظفر اقبال اوکاڑہ، نعیم ظفر گل، احمد شہزاد، بابر علی، سید ارسلان علی شاہ اور کامران راجپوت نے بھی مبارکباد دیتے ہوئے جوڑے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

میہڑ (کیو این این ورلڈ/منظور علی جوئیہ) میہڑ کے نواحی علاقے نؤں گوٹھ تھانے کی حدود میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ایک شخص کو قتل کر دیا اور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ مقتول کی شناخت سید علی اکبر شاہ کے نام سے ہوئی ہے جو تحصیل ڈوکری کے گاؤں بیدی لاشاری کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔
واقعہ گاؤں نبی بخش شاہ میں پیش آیا جہاں مسلح ملزمان نے اچانک حملہ کر کے سید علی اکبر شاہ کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی نؤں گوٹھ تھانے کی پولیس فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے۔
پولیس نے مقتول کی لاش کو اپنی تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے تحصیل ہسپتال میہڑ منتقل کر دیا ہے۔ ابتدائی طور پر واقعے کے محرکات سامنے نہیں آسکے ہیں اور نہ ہی کسی گروہ یا فرد نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش شروع کر دی گئی ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ مقتول کے لواحقین کی جانب سے قانونی کارروائی کی درخواست کے بعد مزید پیش رفت متوقع ہے۔

اوکاڑہ ( کیو این این ورلڈ/بیورو چیف ملک ظفر) ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے پی ڈی پی پروگرام کے تحت شہر کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی دورہ کیا۔ انہوں نے خاص طور پر زیرِ زمین واٹر اسٹوریج ٹینکس اور دیگر تعمیراتی کاموں کی پیشرفت کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر ڈیولپمنٹ حماد یوسف اور اسسٹنٹ کمشنر فیصل شہزاد چیمہ سمیت دیگر متعلقہ افسران اور کنٹریکٹرز بھی موجود تھے۔
اسسٹنٹ کمشنر فیصل شہزاد چیمہ نے جاری منصوبوں پر بریفنگ دیتے ہوئے کام کی رفتار سے آگاہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر نے فاطمہ جناح پارک اور سڑکوں کے اطراف واٹر اسٹوریج ٹینکس کے کام کو جلد از جلد مکمل کرنے کے احکامات جاری کیے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے مشینری اور ورک فورس میں فوری اضافہ کیا جائے تاکہ عوامی دشواریوں کا ازالہ ہو سکے۔
ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کا کہنا تھا کہ بارشی پانی کے نکاس کے لیے واٹر اسٹوریج ٹینکس کا منصوبہ حکومتِ پنجاب کا ایک بہترین اقدام ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل سے شہر کے مرکزی حصوں میں نکاسی آب کے دیرینہ مسائل مستقل طور پر حل ہو جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہر کے اہم چوکوں کی تزئین و آرائش سے اوکاڑہ کے حسن میں اضافہ ہوگا اور کاروباری سرگرمیوں میں بھی آسانی پیدا ہوگی۔
انہوں نے افسران کو سختی سے ہدایت کی کہ عوامی مفاد کے ان منصوبوں میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ شہر کی خوبصورتی اور شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ منصوبوں کی شفافیت اور معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا تاکہ عوام ان ثمرات سے جلد از جلد مستفید ہو سکیں۔

ننکانہ صاحب (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار احسان اللہ ایاز ) ضلع ننکانہ صاحب میں 13 اپریل سے 16 اپریل 2026 تک چار روزہ قومی انسداد پولیو مہم کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ اس مہم کے دوران ضلع بھر کے 2 لاکھ 88 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے لیے 1198 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق حالیہ مہم کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں زیادہ تر غیر سرکاری رضاکاروں کو شامل کیا گیا ہے، جبکہ سرکاری محکموں بالخصوص محکمہ تعلیم کے ملازمین کی شمولیت نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ مہم کے دوران 5 سال تک کی عمر کے بچوں کو پولیو قطروں کے ساتھ ساتھ قوتِ مدافعت بڑھانے کے لیے وٹامن اے کے کیپسول بھی دیے جائیں گے۔
عوامی و سماجی حلقوں نے اس نئی حکمت عملی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یاد دلایا ہے کہ سابق سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر طلحہ شیروانی کے دور میں اساتذہ اور دیگر سرکاری ملازمین کی شمولیت کی وجہ سے ننکانہ صاحب نے پنجاب بھر میں نمایاں کارکردگی دکھائی تھی۔ شہریوں کا ماننا ہے کہ سرکاری ملازمین کی جوابدہی اور تجربہ مہم کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
شہریوں نے ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راؤ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں۔ انہوں نے زور دیا ہے کہ پولیو جیسے حساس قومی مشن کی سو فیصد تکمیل کے لیے اساتذہ اور دیگر محکموں کے ملازمین کو دوبارہ فعال کیا جائے تاکہ ضلع کو پولیو سے پاک کرنے کا ہدف شفافیت کے ساتھ حاصل کیا جا سکے۔

سیالکوٹ (کیو این این ورلڈ/بیوروچیف مدثر رتو کی رپورٹ):پاکستان کے شہر سیالکوٹ نے ایک بار پھر عالمی سطح پر اپنی مہارت اور معیار کا لوہا منواتے ہوئے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے آفیشل میچ بال "ٹریونڈا” کی تیاری کا کنٹریکٹ حاصل کر لیا۔ عالمی برانڈ اڈیڈاس کے ڈیزائن کردہ یہ بال مکمل طور پر فارورڈ اسپورٹس، سیالکوٹ میں تیار کیا جا رہا ہے۔
یہ میچ بال تین میزبان ممالک امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی یکجہتی کی علامت ہے، جس میں جدید 20 پینل ڈیزائن، ایروڈائنامک ساخت، پائیدار مواد اور جدید ٹیکنالوجی شامل ہے۔ بال میں کنیکٹڈ فیچرز بھی شامل کیے گئے ہیں جو وی اے آر سسٹم کے لیے زیادہ درستگی فراہم کریں گے۔
فارورڈ اسپورٹس نے نہ صرف فیفا ورلڈ کپ 2026 بلکہ فیفا کلب ورلڈ کپ 2026 کے بالز تیار کرنے کا کنٹریکٹ بھی حاصل کر لیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے سعودی عرب میں جوائنٹ وینچر کے ذریعے آپریشنز شروع کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے، جو مستقبل کے عالمی مقابلوں کے حوالے سے اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
سیالکوٹ دنیا میں فٹبال سازی کا اہم مرکز ہے اور یہاں تیار ہونے والی ہائی کوالٹی فٹبالز عالمی مارکیٹ کا تقریباً 70 فیصد حصہ ہیں۔ فارورڈ اسپورٹس اس سے قبل 2014، 2018 اور 2022 کے فیفا ورلڈ کپس کے لیے بھی فٹبالز تیار کر چکی ہے۔
اس کامیابی کے موقع پر سیالکوٹ میں خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں اڈیڈاس اور فارورڈ اسپورٹس کی ٹیموں نے اس سنگ میل پر اطمینان اور فخر کا اظہار کیا۔
یہ کامیابی نہ صرف پاکستان کی صنعتی صلاحیت کا ثبوت ہے بلکہ اس سے برآمدات میں اضافہ، روزگار کے نئے مواقع اور “میڈ اِن پاکستان” کی عالمی پہچان مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے۔

اوکاڑہ (کیو این این ورلڈ/بیورو چیف ملک ظفر)ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کا گول چوک سے ملحقہ بازاروں اور کچہری انڈر پاس کا دورہ، انہوں نے منصوبوں کے ترقیاتی کاموں پر پیشرفت کا جائزہ لیا۔
اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل احمد سلیم چشتی، چیف آفیسر میونسپل کمیٹی عمر نسیم سمیت متعلقہ حکام اور کنٹریکٹرز بھی موجود تھے۔
ڈپٹی کمشنر نے ترقیاتی منصوبوں کو ٹائم لائنز کے مطابق مکمل کرنے کے احکامات جاری کیے۔ کنٹریکٹرز کو کوالٹی میٹریل استعمال کرتے ہوئے کام کی رفتار کو تیز کرنے کی ہدایات دیں اور بازاروں کی خوبصورتی اور بحالی کے لیے اسٹیٹ آف دی آرٹ ورک کے لیے اقدامات بارے بھی ہدایات جاری کیں۔
ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے کہا کہ بازاروں میں سیوریج لائنز کی تعمیر و بحالی میں کام کے دوران تکنیکی امور کا خصوصی خیال رکھا جائے۔ تاجروں کی سہولت کے لیے تمام تر کاموں کو جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ منصوبوں کی تکمیل کے لیے کوالٹی میٹریل کے استعمال پر ہرگز کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ تمام متعلقہ افسران منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کرنے کے لیے مسلسل مانیٹرنگ کریں۔

سیالکوٹ (کیو این این ورلڈ/ بیورو چیف مدثر رتو سے) سیالکوٹ میں ایک منفرد اور حیران کن منظر دیکھنے میں آیا ہے جہاں آسٹریلیا سے آئے پاکستانیوں نے اپنے بھائی کی بارات پر آسٹریلین ڈالرز اور پاکستانی کرنسی کی برسات کر دی۔ اس غیر معمولی واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق دولہا قمر عباس کی بارات جب مراکیوال سے گوندل روڈ پر واقع میرج ہال پہنچی تو دولہا کے بھائیوں اور عزیز و اقارب نے نوٹوں سے بھرے تھیلے کھول دیے۔ تقریباً ایک گھنٹے تک فضا میں غیر ملکی اور مقامی کرنسی اچھالی جاتی رہی جسے سمیٹنے کے لیے وہاں موجود لوگوں میں ریس لگ گئی۔
ڈالرز کی برسات کی اطلاع ملتے ہی سینکڑوں مقامی افراد میرج ہال کے باہر جمع ہو گئے، جس کی وجہ سے علاقے میں میلے کا سماں پیدا ہو گیا۔ دور دراز سے آئے افراد بھی بڑی تعداد میں کرنسی سمیٹنے میں مصروف نظر آئے۔ نوٹوں کی اس بوچھاڑ نے ٹریفک کے نظام کو بھی متاثر کیا۔
سوشل میڈیا پر ان مناظر کے وائرل ہونے کے بعد صارفین کی جانب سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کچھ لوگ اسے خوشی کے اظہار کا اپنا انداز قرار دے رہے ہیں، جبکہ صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اسے موجودہ معاشی حالات میں فضول خرچی اور دکھاوے کا نامناسب عمل قرار دیا ہے۔

خیالات کی طلسمی قوت سے فائدہ اُٹھائیے!
تحریر: ظفر اقبال ظفر
ہمارے خیالات و تصورات ہماری شخصیت کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ اگر کسی بھی شخص کے خیالات معلوم ہو جائیں تو علم ہو جاتا ہے کہ وہ کیسا انسان ہے۔ ہمارا ذہنی رجحان ہی ہماری قسمت کا تعین کرتا ہے، یعنی ایک انسان وہی کچھ ہے جو وہ دن بھر سوچتا ہے۔ ہماری زندگی ہمارے خیالات سے بنتی ہے۔
ہمارے سامنے سب سے اہم واحد مسئلہ مفید خیالات کا انتخاب ہے۔ اگر اس میں کامیاب ہو جائیں تو ہم سارے مسائل نہایت آسانی اور خوبی کے ساتھ نبٹا سکتے ہیں۔ صحت مند خیالات خوشی اور مسرت کے ہیں جو خوشحالی کا احساس دیتے ہیں، اور بیمار خیالات ہمیں بزدل اور ڈرپوک بناتے ہیں۔ یعنی بیمار خیالات ہمیں بیمار بناتے ہیں۔ ناکامی کا سوچنے والا ناکام ہی ہوتا ہے اور کامیابی سوچنے والوں کو جیت نصیب ہوتی ہے۔ ہمارے حالات کو ہمارے خیالات ہی بناتے ہیں۔ آپ وہ نہیں جو آپ سمجھتے ہیں، آپ وہ ہیں جو آپ سوچتے ہیں۔
آپ ہر روز صبح نہا کر اچھے کپڑے پہنیں، خوشبو لگائیں اور اپنی گردن بلند رکھتے ہوئے خود اعتمادی کے ساتھ حالات کے راستوں سے گزریں۔ اپنے خیالات مثبت و رجائی رکھتے ہوئے شکست سے شکست کھانے سے انکار کر دیں۔
ہمارا ذہنی رویہ ہماری جسمانی قوتوں پر ناقابل یقین حد تک اثر انداز ہوتا ہے۔ آپ کی جسمانی قوت پر آپ کی ذہنی قوت کے ہی اثرات ہوتے ہیں۔ اپنے ذہنی خیالات کو معیاری رکھنا جسمانی صحت کو معیاری رکھنے کے لیے انتہائی لازم ہے۔ جیسے جیسے ہماری شعوری عمر بڑھتی جائے گی، خیال کی عظیم طاقت پر یقین پختہ ہوتا چلا جائے گا۔
مگر میں بالغ ذہنوں کے لیے ابھی سے وضاحت کیے دوں کہ خیالات میں تبدیلی پیدا کرکے پریشانی و خوف سمیت تمام ذہنی و جسمانی امراض سے نجات حاصل کرکے زندگی کی کایا پلٹی جا سکتی ہے۔ ہر علت کا مقام دماغ ہے اور ہر اثر ایک دماغی مظہر ہے۔
اگر آپ دماغی و اعصابی کشمکش کا شکار نہیں ہوئے تو اس بلا سے بچے رہنے کا صدقہ دیتے رہیں۔ خدا آپ کو اس لعنت سے محفوظ ہی رکھے کیونکہ روحانی کرب سے بڑھ کر جسم کا کوئی درد اتنا شدید نہیں ہوتا۔ میں اعصابی کشمکش کے حالات میں بے بسی کی آخری حد تک جکڑ چکا تھا۔ اپنے اہل خانہ تک بولنے کی سکت نہ بچی اور خیالات پر قابو میری قوت گرفت سے باہر ہو چکا تھا۔ خوف کا غلبہ عالم تنہائی میں لے گیا۔ دن اور رات انتہائی تکلیف و کرب میں گزرتے۔ روئے زمین پر کوئی جسمانی و روحانی معالج نہیں جو میری تکلیف کو سمجھ کر اس کا علاج کر سکے۔
خدائی مدد کی محرومی نے اور وسوسوں میں مبتلا کر دیا اور گمان ہونے لگا کہ زندگی کی تکلیف نہیں تو زندگی ہی ختم ہو جانی چاہیے۔ اصل میں میرا علاج تو میرے ہی اندر چھپا بیٹھا تھا۔ ساری خرابی کی جڑ میں خود تھا۔ میرے جسم و دماغ میں کوئی نقص نہیں تھا۔ جن خیالات کا مجھ پر دردناک غلبہ طاری تھا، انہوں نے مجھے تب شکست دی جب میں نے خود ان سے ہار جانے کو تسلیم کر لیا تھا۔
انسان اپنی غلط سوچوں پر یقین کر بیٹھے تو زندگی کتنی تکلیف دہ ہو جاتی ہے، اس کا احساس مجھے ہو چکا تھا۔ اصل میں میں جو سوچ رہا تھا وہ میرے ساتھ ہو رہا تھا۔ مجھے برا ہونے کو برا سوچنے کے عمل کو چھوڑ کر بدلنا تھا۔ اس کے لیے ضروری ہے ہم ذہن کا سارا گردوغبار دھو ڈالیں جو دماغ اور جسم پر غیر ضروری بوجھ ڈال کر تکلیف کا نتیجہ دے رہا ہے۔
خدا کی جانب سے ہر انسان کو زندگی بڑی حسین، خوشگوار ملتی ہے۔ جب بھی بے چینی اور بے اطمینانی کے اثرات ذہن کی زمین پر رینگنے کی کوشش کریں تو اپنی زندگی کی صحیح قدروں کی قدر کرتے ہوئے اپنی سوچوں کے کیمرے کا فوکس بدل ڈالیے۔ منظر بدلے گا تو ہر چیز درست ہو جائے گی۔
خیالات کا جسم و ذہن پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ مضر خیالات کو مفید بنانے کا فن سکونِ حیات بنتا ہے۔ سارے مصائب کے ذمہ دار خارجی حالات نہیں ہیں بلکہ ان حالات کے متعلق ہمارے خیالات ہیں۔ اس حقیقت کو تسلیم کیجیے، ان پر کنٹرول پائیں اور درست کام لے کر ذہنی صحت سے ہمکنار رہیے۔
زندگی سے میسر ہونے والا ہمارا ذہنی سکون و آرام اس بات پر موقوف نہیں کہ ہم کون ہیں، کہاں ہیں، بلکہ اس کا انحصار سراسر ہمارے ذہنی رویے پر مبنی ہوتا ہے جو ہم اس کے متعلق اختیار کرتے ہیں، اور اس میں خارجی حالات و واقعات کا بہت کم تعلق ہوتا ہے۔
سزائے موت کے مجرم بھی اگر سکون، خوشی، ہمت کے تخلیقی خیالات اپنالیں تو تختہ دار کی جانب جاتے ہوئے اپنے کفن پر بیٹھ کر قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ یعنی مرتے ہوئے بھی اپنے سینوں کو خوشی و مسرت کے نغموں سے بھرپور کر سکتے ہیں۔
بغیر غم و دُکھ کے حالات کا نقصان اُٹھا لینا مگر تلخ خیالات نہ اُٹھانا۔ ذہن خود ہی اپنا مقام بناتا ہے: جنت سے جہنم اور جہنم سے جنت۔
عظمت، طاقت، دولت رکھنے والا ایک خوبصورت جزیرے پر بیٹھا کہتا ہے میری زندگی میں خوشی کے بس چند دن ہی آئے، اور ایک اندھا، گونگا، بہرا شخص کہتا ہے کہ میں نے زندگی کو بہت حسین پایا۔ یہ خیالات کی طلسمی قوت کا دلایا گیا بیان ہے۔
حسن انسانی خیالات میں نہیں تو رنگین نظارے بھی بے معنی ہیں۔ تمہارے خیالات تمہیں کہتے ہیں کہ تمہارے اپنے سوا کوئی بھی تمہیں سکون و خوشی نہیں دے سکتا۔ ہمیں اپنے جسم سے پھوڑے، پھنسیاں، ورم، رسولیاں دور کرنے کی نسبت اپنے ذہن سے غلط خیالات خارج کرنے کی زیادہ فکر و کوشش کرنی چاہیے۔
جب آپ ہجومِ مصائب میں گھرے ہوں، اعصاب تاروں کی طرح جھنجھنا رہے ہوں، ایک ہیجان برپا ہو، تو آپ ایسے حالات میں اپنی قوتِ خودارادی سے اپنا ذہنی رویہ تبدیل کرکے سارا منظر بدل سکتے ہیں۔ ایسا محض ارادہ کرکے فی الفور جذبات کو نہیں بدلا جا سکتا، بلکہ اس سے ہم اپنے افعال میں تغیر پیدا کر سکتے ہیں۔ جب ہمارے افعال بدل جائیں، احساسات میں خود بخود تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے۔
مختلف کتب و حالات کے مطالعے اور مشاہدے سے ایک "پلاسٹک سرجری” کی ترکیب خود آزما کر دیکھئے: اپنے چہرے پر ایک وسیع دیانتدارانہ مسکراہٹ پیدا کیجئے، اپنے کندھے پیچھے کی طرف سیکڑئیے، خوب گہرا لمبا سانس نکالیے، کسی گیت کو گنگنائیے، کیونکہ جب آپ خود کو خوش کرنے کی حرکتیں کر رہے ہوں تو جسمانی طور پر افسردہ رہنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ یقین جانیے یہ عمل جسم میں انقلابی تبدیلی برپا کرتا ہے۔
خیالات کے ذریعے اپنے آپ کو بہتر بنانے کی کوشش ہی تندرستی کی ضمانت ہے۔ میں وثوق سے کہتا ہوں کہ اگر آپ شکست خوردہ اور مردہ خیالات کی زد سے باہر نہ نکلے تو زندگی کے لطف سے محروم ہی رہیں گے۔ قدرتی راستہ اپنائیں، کسی دوائی کی مدد کے بغیر صرف ذہنی رویے کی تبدیلی سے اپنے آپ کو تندرست ہونے کا موقع دیں۔
لوگوں اور چیزوں کے متعلق خیالات بدلنے سے اُن کے رویے میں خودبخود تبدیلی آ جاتی ہے۔ بلند خیالات اُبھار کر کامیابی کی کشتی میں بیٹھ کر ترقی کی منزلیں طے کی جا سکتی ہیں، اور اس سے انکار کرنے والا حقیر، کمزور، ادنیٰ اور شکستہ حال رہے گا۔
وہ دیوتا جو ہماری خواہشوں اور آرزوؤں کو تکمیل دیتا ہے، وہ خود ہم ہی ہیں۔ انسان جو کچھ حاصل کرتا ہے، وہ اس کے اپنے خیالات کا براہ راست نتیجہ ہے۔


دادو (کیو این این ورلڈ) ماڈل کرمنل کورٹ نے ام رباب چانڈیو کے والد، دادا اور چچا کے قتل کیس میں نامزد تمام ملزمان کو بری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وکیل صلاح الدین پنہور نے تصدیق کی ہے کہ عدالت نے اس ہائی پروفائل مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے تمام نامزد افراد کو رہا کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ سرداری نظام کے خلاف جدوجہد کے دوران آٹھ سال قبل تین افراد کو دن دہاڑے قتل کیا گیا تھا۔ اس مقدمے میں سندھ اسمبلی کے دو ارکان سمیت 8 ملزمان نامزد تھے، جن میں سے چار جیل میں اور چار ضمانت پر تھے۔ مقتولین کے وکیل کا کہنا ہے کہ کیس میں ٹھوس گواہ اور میڈیکل شواہد موجود تھے، اس لیے اس فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل کی جائے گی۔
فیصلے کے موقع پر دادو میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے اور ڈی ایس پیز سمیت 450 پولیس اہلکار تعینات رہے۔ جوڈیشل کمپلیکس اور ام رباب کے گھر کے باہر بھی پولیس کی بھاری نفری موجود رہی۔ عدالت نے گزشتہ سماعت پر گواہان کے بیانات اور دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
دوسری جانب امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے عدالتی فیصلے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے ‘وڈیرہ شاہی کی جیت اور انصاف کی ہار’ قرار دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اس فیصلے نے ثابت کر دیا کہ نظامِ انصاف طاقتور جاگیرداروں کی لونڈی بن چکا ہے، تاہم انہوں نے ام رباب چانڈیو کی تاریخی جدوجہد کو سلام پیش کیا۔