گوجرانوالہ:پٹرولنگ پولیس کی ریجن میں شاندار کارکردگی , 53 اشتہاری گرفتار

پنجاب ہائی وے پٹرول گوجرانوالہ ریجن کی مئی میں شاندار کارکردگی، 53 اشتہاری گرفتار

گوجرانوالہ (کیو این این ورلڈ/محمد رمضان نوشاہی)پنجاب ہائی وے پٹرول گوجرانوالہ ریجن نے ماہ مئی کے دوران مختلف جرائم میں ملوث افراد کے خلاف 408 مقدمات درج کیے جبکہ 53 اشتہاری اور 32 عدالتی مفرور گرفتار کیے گئے۔

ریجنل آفیسر میاں معظم علی کے مطابق 7 لاکھ سے زائد افراد اور 4 لاکھ 90 ہزار سے زائد گاڑیوں کی چیکنگ کی گئی، 1901 ٹریفک چالان کیے گئے اور 8363 مسافروں کو سفر کے دوران مدد فراہم کی گئی۔

پی ایچ پی نے 11 گمشدہ بچوں کو والدین سے ملوایا، 60 زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد دی، چوری شدہ دو موٹر سائیکلیں اور ایک ڈالا برآمد کیا جبکہ ناجائز اسلحہ، گولیاں اور 36 لیٹر شراب بھی ضبط کی گئی۔

مسافر گاڑیوں میں غیر قانونی ایل پی جی سلنڈر استعمال کرنے والوں کے خلاف 156 مقدمات درج کیے گئے جبکہ خدمت مرکز کے ذریعے 3146 شہریوں کو مختلف پولیسنگ خدمات فراہم کی گئیں۔

مصدقہ خبریں، ذمہ دارانہ صحافت
QNN World

میہڑ کے دعا چوک میں واقع ایک ایل پی جی دکان میں سلنڈر پھٹنے سے خوفناک دھماکہ

میہڑ (کیو این این ورلڈ/منظور علی جوئیہ)میہڑ کے دعا چوک میں واقع ایک ایل پی جی دکان میں سلنڈر پھٹنے سے خوفناک دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں 14 سالہ مزدور عبدالعزیز جتوئی شدید زخمی ہو گیا۔

مقامی شہریوں نے زخمی بچے کو فوری طور پر تعلقہ اسپتال میہڑ منتقل کیا، جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد ریسکیو 1122 کے ذریعے اسے مزید علاج کے لیے لاڑکانہ ریفر کر دیا گیا۔

واقعے کے بعد شہریوں نے دکانوں میں غیر معیاری ایل پی جی سلنڈرز کے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے فوری کارروائی اور حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

ایم ڈی واسا احد ڈوگر نے منصوبوں پر بریفنگ دی جبکہ ڈپٹی کمشنر نوید احمد بھی اس موقع پر موجود تھے

گوجرانوالہ (کیو این این ورلڈ/محمد رمضان نوشاہی)گوجرانوالہ میں 30 ارب روپے مالیت کے میگا سیوریج درستگی منصوبے کا 80 فیصد ترقیاتی کام مکمل کر لیا گیا ہے۔ سیکرٹری ہاؤسنگ نورالامین مینگل نے جاری منصوبوں کا جائزہ لیتے ہوئے ہدایت کی کہ مون سون سے قبل تمام ترقیاتی کام مکمل کیے جائیں۔

ایم ڈی واسا احد ڈوگر نے منصوبوں پر بریفنگ دی جبکہ ڈپٹی کمشنر نوید احمد بھی اس موقع پر موجود تھے۔ سیکرٹری ہاؤسنگ نے شہریوں اور عملے کی حفاظت کے لیے ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد اور تمام سائٹس پر 24 گھنٹے کام جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر منصوبے کی پیش رفت کی مسلسل مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔

مصدقہ خبریں، ذمہ دارانہ صحافت
QNN World

واپڈا کی نجکاری اور مزدور دشمن پالیسیوں کے خلاف احتجاج

میہڑ (کیو این این ورلڈ/منظور علی جوئیہ)واپڈا کی نجکاری اور مزدور دشمن پالیسیوں کے خلاف واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک یونین کے زیر اہتمام میہڑ میں شدید گرمی کے باوجود احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا دیا گیا۔ مظاہرین نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے نجکاری کے فیصلوں کو مسترد کر دیا۔

یونین رہنماؤں سعید احمد کلہوڑو، حسین بخش جتوئی، زاہد علی بھٹو، نادر علی چانڈیو اور دیگر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مزدور دشمن پالیسیوں کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عید بونس، سن کوٹہ اور دیگر جائز مطالبات فوری طور پر تسلیم کیے جائیں، بصورت دیگر پرامن احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

مصدقہ خبریں، ذمہ دارانہ صحافت
QNN World

ڈی جی خان: لٹل سکالر سکول واقعے کے خلاف لواحقین کا مظاہرہ

ڈیرہ غازی خان (کیو این این ورلڈ/نیوز رپورٹر شاہد خان) لٹل سکالر سکول کے شہید بچوں کے لواحقین نے انصاف کے حصول کے لیے ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) آفس کے سامنے شدید احتجاج کیا۔ مظاہرے میں شریک متاثرہ خاندانوں کے افراد نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے، جن پر انصاف کی فراہمی اور ملزمان کی گرفتاری کے مطالبات درج تھے۔

مظاہرین نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے معصوم بچوں کے خون کا انصاف چاہتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس افسوسناک واقعے میں ملوث تمام عناصر کو فوری طور پر گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے لرزہ خیز واقعات کا سدباب ہو سکے۔

لواحقین نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اس پورے معاملے کا ذاتی طور پر فوری نوٹس لیں اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک ان کے بچوں کے قاتلوں اور ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک نہیں پہنچایا جاتا، ان کی جدوجہد اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔

انقلابِ ایران: تاریخ سے حال تک

ایران: نظام اور انقلاب
تحریر: سید نذیر شاہ
ایران ایک اسلامی جمہوریہ ہے، جس کی بنیاد 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد رکھی گئی۔ یہ دراصل ایک مخلوط اور ہائبرڈ نظام ہے جس میں عوام بھی ووٹ دیتے ہیں، مگر حتمی اور آخری اختیار مذہبی قیادت کے پاس ہوتا ہے۔ ایران کا یہ منفرد اور پیچیدہ سیاسی ڈھانچہ ایک ایسا دوہرا نظام پیش کرتا ہے جس میں منتخب عوامی نمائندے اور غیر منتخب مذہبی مقتدرہ ایک ساتھ کام کرتے ہیں، لیکن اکثر ان کی ترجیحات اور اہداف ایک دوسرے سے متصادم نظر آتے ہیں۔

جمہوری قیادت اور مذہبی مقتدرہ کے مابین یہ کھچاؤ ایران کے ہائبرڈ نظام کا سب سے حساس پہلو ہے۔ ایک طرف عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والا صدر اور پارلیمنٹ ہوتے ہیں، جنہیں عوامی توقعات پر پورا اترنے، معاشی سدھار لانے اور بین الاقوامی تنہائی ختم کرنے کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مذاکراتی میز پر لچک دکھانی پڑتی ہے، تو دوسری طرف جب بھی ایرانی صدر یا وزیرِ خارجہ ایسی کوئی کوشش کرتے ہیں، تہران کے اقتدار کے دوسرے مرکز اور پاسدارانِ انقلاب سے انقلابی اصولوں کی پکار سنائی دیتی ہے جو کسی بھی سمجھوتے کو نظریاتی پسپائی سے تعبیر کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ دوہرا نظام عالمی برادری کے ساتھ کسی بھی مستقل معاہدے یا مذاکرات کی کامیابی میں سب سے بڑی رکاوٹ بن کر ابھرتا ہے۔ ایران کے لیے اپنی انقلابی شناخت برقرار رکھنے اور ایک نارمل ریاست کے طور پر دنیا میں سامنے آنے کے درمیان توازن قائم رکھنا ہمیشہ سے ایک بڑا چیلنج رہا ہے، کیونکہ مذہبی قیادت کے نزدیک امریکہ اور مغرب سے مستقل اور گہرا سمجھوتہ ان کے اس نظریاتی ستون کو کمزور کر سکتا ہے جس پر 1979ء کے انقلاب کی عمارت کھڑی ہے۔

ایران میں politics اور مذہبی قیادت کے مابین جاری رہنے والی کشمکش محض وقتی یا جدید دور کا کوئی اتفاقی واقعہ نہیں ہے، بلکہ اس کے پسِ منظر میں صدیوں پر محیط ایک ایسی تاریخ پوشیدہ ہے جس کی جڑیں 1979ء کے اسلامی انقلاب سے بھی بہت پیچھے تک جاتی ہیں۔ اس پیچیدہ اور ہمہ جہت کشمکش کے فکری و سیاسی ارتقاء کو گہرائی سے سمجھنے کے لیے ہمیں سولہویں صدی کے صفوی دور کا رخ کرنا پڑتا ہے، جہاں سے ایرانی ریاست اور مذہب کے باہمی تعلق نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ صفوی سلطنت کے بانی شاہ اسماعیل اول، جو 1487ء کو پیدا ہوئے، نے نو عمری میں اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی اور بکھرے ہوئے ایران کو مضبوط مرکزیت اور ایک نئی جغرافیائی شناخت دی بلکہ پہلی بار مکتبِ اہلِ بیت کو باقاعدہ ریاستی مذہب قرار دے کر ایک ایسی بنیاد رکھ دی جس نے علما اور فقہا کو حکومتی ایوانوں میں ایک باوقار اور با اثر طبقے کے طور پر متعارف کرایا۔

ابتدا میں صفوی حکمرانوں نے مذہبی علما کی سرپرستی اس غرض سے کی تاکہ وہ اپنی حکومت کے لیے مذہبی و اخلاقی جواز (مشروعیت) حاصل کر سکیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ علما نے اس سرکاری سرپرستی کو اپنی مستقل سیاسی اور سماجی طاقت میں ڈھال لیا۔ یہی وجہ تھی کہ قاجار دور تک آتے آتے علما کی یہ قوت اس قدر مستحکم ہو گئی کہ وہ عوامی سطح پر ایک متوازی قیادت کے طور پر ابھرنے لگے۔ تمباکو تحریک (1891ء) اور بعد ازاں (1905ء-1911ء) تحریکِ مشروطیت (آئینی تحریک) جیسے تاریخی واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ علما اب محض گوشہ نشین مبلغ نہیں رہے تھے، بلکہ وہ بادشاہت کے سامنے ایک توانا سیاسی دیوار بن چکے تھے جنہوں نے عوامی حقوق اور استعمار دشمنی کے نام پر شاہی اقتدار کو چیلنج کرنا شروع کر دیا تھا۔

بیسویں صدی میں جب پہلوی خاندان برسرِ اقتدار آیا، تو رضا شاہ پہلوی اور ان کے بیٹے محمد رضا شاہ پہلوی نے ایران کو ایک جدید، صنعتی اور قوم پرست ریاست بنانے کا عزم کیا۔ رضا شاہ نے ترکی کے مصطفیٰ کمال اتاترک کی طرز پر سخت لادینی پالیسیاں نافذ کیں، مغربی لباس لازمی قرار دیا اور خواتین کے حجاب پر پابندی عائد کر دی۔ ان اقدامات کا مقصد ایران کو یورپی طرز پر ڈھالنا تھا، جس کے لیے علما کے اثر و رسوخ کو عدلیہ، بیوروکریسی اور تعلیمی نظام سے نکالنے کے لیے انتہائی سخت اقدامات کیے گئے۔ اس دوران شاہی اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے ساوک جیسے بدنام زمانہ خفیہ ادارے کا سہارا لیا گیا، جس نے سیاسی مخالفین پر بدترین تشدد، کڑی نگرانی اور جبر کے ذریعے دو دہائیوں تک خوف کی فضا قائم رکھی۔

مگر اس جارحانہ جدیدیت پسندی اور لادینی پالیسیوں کا نتیجہ شاہی مقتدرہ کی توقعات کے بالکل برعکس نکلا۔ ان جابرانہ اقدامات نے علما کو مزید متحد کر دیا اور انہیں عوامی غیظ و غضب کو منظم کرنے کا بھرپور موقع فراہم کیا۔ یہی وہ مسلسل سیاسی عمل تھا جو بالآخر 1979ء کے انقلاب کی صورت میں ظاہر ہوا، جس کی بے باک قیادت آیت اللہ روح اللہ خمینی نے کی۔ اس تاریخی انقلاب کے دوران معاشرے کے مختلف فکر و عمل سے تعلق رکھنے والے طبقات، جن میں روایتی علما، بائیں بازو کی سوشلسٹ جماعتیں، بازاری تاجر اور نظریاتی طلبہ شامل تھے، ایک عارضی اور نازک اتحاد میں بندھ گئے جن کا مشترکہ ہدف ایران میں شہنشاہیت کا خاتمہ تھا۔ اس کشمکش میں جہاں نامور ایرانی مفکر ڈاکٹر علی شریعتی نے نوجوانوں کو فکری بیداری دی تو دوسری طرف آیت اللہ روح اللہ خمینی نے اسلام کو ایک باقاعدہ ریاستی اور حکومتی نظام کی بنیاد بنایا، جس کا نتیجہ اسلامی انقلاب کی صورت میں نکلا اور یوں انہوں نے اس جدوجہد کو عملی شکل دے کر اسلامی ریاست قائم کی۔

اسی عبوری مرحلے پر آیت اللہ خمینی نے "ولایتِ فقیہ” کا ایک نیا اور انقلابی نظریہ پیش کیا، جس کا بنیادی مقدمہ یہ تھا کہ غیبتِ امام کے دور میں ایک جید اور عادل فقیہ کو ہی ریاست کا اصل سربراہ ہونا چاہیے۔ یہ نظریہ اگرچہ جدید ایران کی بنیاد بنا، مگر اس پر تمام مذہبی حلقوں کا اتفاق نہیں تھا۔ آیت اللہ شریعتمداری جیسے بلند پایہ علما کا یہ پختہ مؤقف تھا کہ علما کا اصل مقام سماجی و اخلاقی رہنمائی ہے اور انہیں براہِ راست سیاسی اقتدار اور انتظامی امور میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔ یہ فکری اختلاف بہت جلد ایک کھلی سیاسی کشمکش میں بدل گیا، جس کے نتیجے میں نظام کی مخالفت کرنے والے کئی جید علما کو نظر بند کر دیا گیا اور ولایتِ فقیہ کو نئے آئین کی روح بنا کر نافذ کر دیا گیا۔

انقلاب کے بعد مرتب ہونے والے اس نئے ڈھانچے میں رہبرِ اعلیٰ (سپریم لیڈر) کو ایک ایسی ماورائی حیثیت دی گئی جس کے پاس مسلح افواج کا کمانڈر انچیف، عدلیہ پر حتمی اثر و رسوخ، میڈیا کی نگرانی اور ملک کے تمام بڑے اسٹریٹجک فیصلے کرنے کے لامحدود اختیارات موجود ہیں۔ اس کے برعکس، صدر اور پارلیمنٹ اگرچہ براہِ راست عوامی ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں، لیکن ان کے اختیارات کی حدیں سپریم لیڈر کے اداروں کے سامنے بہت محدود ہیں۔ مجلسِ شورائے اسلامی (ایرانی پارلیمنٹ) اگرچہ قانون سازی اور بجٹ سازی کا اختیار رکھتی ہے، لیکن اس کی ہر جنبشِ قلم شورائے نگہبان کی محتاج ہوتی ہے۔ یہ 12 رکنی طاقتور کونسل، جس کے نصف ارکان کا انتخاب براہِ راست سپریم لیڈر کرتا ہے، نہ صرف قوانین کو ویٹو کر سکتی ہے بلکہ انتخاب لڑنے والے امیدواروں کی اہلیت کو بھی پرکھتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، مجلسِ خبرگانِ رہبری اور مجمع تشخیص مصلحتِ نظام کا وجود بھی نہایت اہم ہے جو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ریاست کی انقلابی شناخت پر کوئی آنچ نہ آئے۔ جس کی وجہ سے ایران کا پورا سیاسی عمل ایک خاص نظریاتی دائرے کے اندر قید ہو کر رہ گیا ہے۔

اس منفرد سیاسی منظرنامے کا ایک اہم ترین رخ اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) یعنی پاسدارانِ انقلاب کا قیام ہے۔ یہ ادارہ 1979ء کے اسلامی انقلاب کے فوراً بعد آیت اللہ روح اللہ خمینی کے حکم پر ایک طاقتور فوجی اور نظریاتی تنظیم کے طور پر قائم کیا گیا تھا، جو آج ایران کے سیاسی, عسکری اور اقتصادی نظام میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے اور براہِ راست سپریم لیڈر کو جواب دہ ہے۔ اگرچہ ابتدا میں یہ ادارہ محض ایکایماندار محافظ دستے کے طور پر وجود میں آیا تھا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ایرانی ریاست کے دفاعی، معاشی اور سیاسی نظام کا سب سے طاقتور ستون بن کر ابھرا۔

پاسدارانِ انقلاب کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ روایتی فوج کے برعکس براہِ راست رہبرِ اعلیٰ کے تابع ہے، اور اس کا دائرۂ کار صرف جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت تک محدود نہیں بلکہ انقلاب کے نظریاتی تحفظ، داخلی سلامتی اور علاقائی اثر و رسوخ کے فروغ تک پھیلا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ اس ادارے نے ایران کی معیشت کے بڑے حصوں اور اسٹریٹجک فیصلہ سازی میں اس قدر نفوذ حاصل کر لیا ہے کہ اب ایک طرف حکومت اور پارلیمنٹ کے ایوانوں میں بھی اس کے سابق افسران کا گہرا سیاسی اثر و رسوخ واضح طور پر نظر آتا ہے تو دوسری طرف، ایران کی خارجہ پالیسی اور علاقائی رسوخ کا پورا نیٹ ورک، جسے "محورِ مزاحمت” کہا جاتا ہے، وہ بھی منتخب حکومت یا وزیرِ خارجہ کے بجائے براہِ راست پاسدارانِ انقلاب کی "قدس فورس” کے ہاتھ میں رہا ہے۔ لبنان میں حزب اللہ، یمن میں حوثی، اور عراق و شام میں مختلف مسلح گروہوں کے ساتھ رابطے اور اسٹریٹجک فیصلے قدس فورس ہی طے کرتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایرانی وزارتِ خارجہ دنیا کے سامنے جو سفارتی بیانیہ پیش کرتی ہے، زمین پر پاسدارانِ انقلاب کے اقدامات بسا اوقات اس سے بالکل مختلف ہوتے ہیں، جو اس ہائبرڈ نظام کے تضادات اور طاقت کے اصل مراکز کو دنیا پر عیاں کرتے ہیں۔

فروری 2026ء سے امریکہ اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ اور رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای سمیت دیگر اعلیٰ قیادت کی شہادت جیسے مخدوش حالات میں ایران کا یہ ہائبرڈ نظام آج ایک کڑی آزمائش سے گزر رہا ہے۔ تاہم ان غیر معمولی اور بحرانی واقعات سے یہ نتیجہ قطعاً نہیں نکالا جا سکتا کہ وہاں کا ریاستی ڈھانچہ منہدم ہو چکا ہے، کیونکہ ایران کی مجلسِ خبرگانِ رہبری نے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا رہبرِ اعلیٰ منتخب کر لیا ہے، جب کہ دوسری طرف منتخب صدر، وزیرِ خارجہ اور پارلیمنٹ بھی اپنے وجود کے ساتھ متحرک ہیں اور بیرونی دنیا سے مسلسل مذاکرات اور سفارتی دورے کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نظام شدید دباؤ کے باوجود اپنا مضبوط کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے، لیکن اب اس کے لیے کسی بھی ممکنہ اندرونی ٹوٹ پھوٹ سے مستقل محفوظ رہنا مشکل نظر آتا ہے کیونکہ تہران کے سیاسی اور عسکری حلقوں میں سوچ کا فرق روز بروز گہرا ہو رہا ہے۔

اس تضاد کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ جہاں منتخب جمہوری قیادت ملکی معیشت کو مکمل تباہی سے بچانے اور جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سفارت کاری اور بین الاقوامی سمجھوتوں کو ناگزیر سمجھتی ہے، وہاں پاسدارانِ انقلاب (IRGC) اور مقتدر عسکری حلقے کسی بھی قسم کی لچک کو نظریاتی پسپائی اور اپنے رہبرِ اعلیٰ اور سینیئر کمانڈرز کے خون سے بے وفائی قرار دیتے ہیں۔ عسکری قیادت کا ماننا ہے کہ اس کٹھن وقت میں بقا صرف جارحانہ مزاحمت اور عسکری جواب میں ہے، جبکہ سفارتی محاذ پر سرگرم سیاست دان ملک کو تنہائی سے نکالنے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اقتدار کے ان دو طاقتور مراکز کے مابین اسٹریٹجک فیصلوں پر بڑھتی ہوئی یہ خلیج نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے بھی پہلا بڑا امتحان ہے کہ وہ ان دونوں متصادم سوچوں کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھتے ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ ایسے نازک حالات میں قوموں کے اندر عموماً یہی سوچ غالب آتی ہے کہ پہلے بیرونی خطرات کا متحد ہو کر مقابلہ کیا جائے اور داخلی اختلافات کو بعد کے لیے اٹھا رکھا جائے۔ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ مسلسل کشیدگی کے نتیجے میں عام ایرانی کے قوم پرستانہ جذبات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور بیرونی حملوں نے پوری قوم کو یکجا کر دیا ہے۔ اس جنگی ماحول میں ایرانی عوام کے اندر یہ واضح سوچ ابھر کر سامنے آئی ہے کہ نظام کی خامیاں، جمہوری قیادت اور مذہبی مقتدرہ کے مابین کھچاؤ، یا کوئی بھی داخلی اختلافات سراسر ان کا اپنا اندرونی معاملہ ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ تہران کے اقتدار کے ایوانوں کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ اس نازک ترین موقع پر کسی بھی قسم کا داخلی اختلاف، فکری انتشار اور اختیارات کی یہ باہمی رسہ کشی خود ایرانی قوم کے وسیع تر مفاد میں ہرگز نہیں ہے، کیونکہ اندرونی خلفشار بیرونی دشمنوں کے عزائم کو مزید تقویت دے سکتا ہے۔ اگرچہ اقتصادی پابندیاں، افزودہ یورینیم کا مسئلہ، امریکی مذاکرات، معاہدے اور دوبارہ حملے کی دھمکیاں بظاہر ایک انتہائی مشکل اور پریشان کن صورتِ حال پیش کرتی ہیں، تاہم اسی ماحول نے ایرانی معاشرے میں ایک بے لچک قومی شعور، خود انحصاری اور مزاحمت کا وہ فولادی جذبہ بھی پیدا کیا ہے جو انہیں ایک متحد اور انقلابی قوم کے طور پر آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔

مصدقہ خبریں، ذمہ دارانہ صحافت
QNN World

محمد اسلم شہزاد جرنلسٹ فاؤنڈیشن آف پاکستان کے شوبز ونگ کے وائس چیئرمین مقرر

ملتان (کیو این این ورلڈ/شوبز رپورٹر)معروف اداکار، ہدایت کار اور تھیٹر کی نامور شخصیت محمد اسلم شہزاد کو جرنلسٹ فاؤنڈیشن آف پاکستان رجسٹرڈ کے شوبز ونگ کا وائس چیئرمین نامزد کر دیا گیا ہے۔ نئی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد انہوں نے فنکار برادری کی فلاح و بہبود، ان کے حقوق کے تحفظ اور شوبز انڈسٹری کی ترقی کے لیے بھرپور کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

محمد اسلم شہزاد کا شمار پاکستان کے سینئر اور تجربہ کار فنکاروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنے فنی سفر کا آغاز 1981 میں کیا اور معروف استاد ایس قمر زیدی کی شاگردی میں اداکاری اور ہدایت کاری کے شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کو نکھارا۔ بطور اداکار انہوں نے متعدد مقبول ڈراموں میں اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا جن میں "چراغ تلے اندھیرا”، "بڈھے کی عید”، "واہ تیری قسمت” اور "چلی چال باز” نمایاں ہیں۔

بطور ہدایت کار بھی محمد اسلم شہزاد نے شوبز انڈسٹری کو کئی کامیاب اور یادگار ڈرامے دیے۔ ان کے نمایاں ڈراموں میں "ہم بھی دیکھیں گے”، "گنڈاسا فیملی” اور "ہیرا ہوا باز” شامل ہیں، جنہیں شائقین کی جانب سے بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی۔

اپنے طویل اور کامیاب کیریئر کے دوران محمد اسلم شہزاد نے متعدد نئے مرد اور خواتین فنکاروں کو متعارف کروا کر ان کے فنی سفر کی بنیاد رکھی۔ ملتان میں تھیٹر کلچر کے فروغ اور ترقی میں بھی ان کی خدمات قابلِ ذکر ہیں۔ انہوں نے کرن تھیٹر، مون تھیٹر اور جہاں زیب تھیٹر جیسے اداروں اور پلیٹ فارمز کو فعال بنانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث جنوبی پنجاب میں تھیٹر کے شعبے کو نئی جہت ملی۔

محمد اسلم شہزاد اس وقت ملتان آرٹسٹ ایسوسی ایشن کے وائس پریذیڈنٹ کی ذمہ داریاں بھی انجام دے رہے ہیں۔ جرنلسٹ فاؤنڈیشن آف پاکستان رجسٹرڈ کے شوبز ونگ کے وائس چیئرمین مقرر ہونے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فنکار معاشرے کا قیمتی اثاثہ ہیں اور ان کے مسائل کے حل، فلاح و بہبود اور مستقبل کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس نئے پلیٹ فارم کے ذریعے فنکار برادری کے حقوق کے تحفظ، نوجوان ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی اور شوبز انڈسٹری کی بہتری کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ فنکاروں کو درپیش مسائل کے حل اور ان کے لیے بہتر مواقع کی فراہمی ان کی اولین ترجیح ہوگی۔

مصدقہ خبریں، ذمہ دارانہ صحافت
QNN World

حاجی گگہ میں باڑے کو آگ لگ گئی، ریسکیو 1122 نے بروقت کارروائی کر کے مزید نقصان سے بچا لیا

قصور (کیو این این ورلڈ/بیوروچیف طارق نوید سندھو)قصور کے نواحی علاقے حاجی گگہ میں جانوروں کے باڑے میں شارٹ سرکٹ کے باعث اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں ایک بھینس ہلاک جبکہ سات جانور جھلس کر زخمی ہو گئے۔ ریسکیو 1122 کی بروقت کارروائی کے باعث آگ کو مزید پھیلنے سے روک لیا گیا، جس سے بڑے نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔

پولیس ذرائع کے مطابق واقعہ یکم جون 2026 کو دوپہر تقریباً ایک بجے تھانہ صدر قصور کے علاقے حاجی گگہ میں پیش آیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق باڑے میں موجود بجلی کی تاروں میں شارٹ سرکٹ ہونے کے باعث آگ بھڑک اٹھی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے جانوروں کے احاطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

واقعے کے وقت باڑے میں مجموعی طور پر 11 جانور موجود تھے۔ آگ لگنے کے نتیجے میں ایک بھینس موقع پر ہی ہلاک ہو گئی جبکہ سات دیگر جانور جھلس کر زخمی ہو گئے۔ تاہم تین جانور خوش قسمتی سے محفوظ رہے اور انہیں بروقت نکال لیا گیا۔

اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا۔ ریسکیو اہلکاروں نے زخمی جانوروں کو بھی محفوظ مقام پر منتقل کیا اور صورتحال کو کنٹرول میں لے لیا۔

QNN World Regional News Bulletin 1st June 2026

مقامی افراد نے ریسکیو 1122 کی بروقت کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر امدادی ٹیمیں فوری نہ پہنچتیں تو آگ مزید پھیل سکتی تھی جس سے جانوروں اور قریبی املاک کو بھاری نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا۔

پولیس اور متعلقہ اداروں نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ شارٹ سرکٹ قرار دی جا رہی ہے۔

مصدقہ خبریں، ذمہ دارانہ صحافت
QNN World

سیالکوٹ ایئرپورٹ پر حجاج کرام کی وطن واپسی کا آغاز، پہلی پرواز جدہ سے پہنچ گئی

سیالکوٹ (کیو این این ورلڈ/شاہد ریاض)حجاج کرام کی وطن واپسی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہلی پوسٹ حج پرواز کے ذریعے عازمین حج کی آمد کا آغاز ہو گیا۔ ترجمان سیالکوٹ ایئرپورٹ کے مطابق جدہ سے آنے والی پہلی پرواز PF717 کے ذریعے 158 حجاج کرام سیالکوٹ پہنچے جن کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

وزیر مملکت برائے منصوبہ بندی و خصوصی امور ارمغان سبحانی نے ایئرپورٹ پر حجاج کرام کا استقبال کیا۔ اس موقع پر چیئرمین سیال حسن علی بھٹی، وائس چیئرمین وقاص افضل، ممبر بورڈ سیال شاہد رضا اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے جنہوں نے حجاج کرام کو وطن واپسی پر خوش آمدید کہا۔

وزیر مملکت ارمغان سبحانی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حجاج کرام کا استقبال کرنا ان کے لیے باعثِ سعادت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حجاج کرام روحانی فریضے کی ادائیگی کے بعد وطن واپس لوٹے ہیں اور پوری قوم ان کا خیرمقدم کرتی ہے۔

چیئرمین سیال حسن علی بھٹی نے کہا کہ حجاج کرام اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں اور ان کی سہولت اور عزت و احترام کے لیے سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بہترین انتظامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حجاج کو امیگریشن، سامان کی وصولی اور دیگر سفری مراحل میں ہر ممکن سہولت فراہم کی گئی تاکہ انہیں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

QNN World Regional News Bulletin 1st June 2026

ترجمان کے مطابق سیالکوٹ ایئرپورٹ پر پوسٹ حج فلائٹ آپریشن کے تحت قومی ایئرلائن اور ایئر سیال کی پروازیں مسلسل جاری رہیں گی۔ قومی ایئرلائن کی جانب سے 5 جبکہ ایئر سیال کی جانب سے 21 پروازوں کے ذریعے 5 ہزار سے زائد پاکستانی عازمین حج کو حجاز مقدس سے واپس وطن لایا جائے گا۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ آج مجموعی طور پر تین پروازیں PF717، PF721 اور PK761 کے ذریعے 708 حجاج کرام سیالکوٹ پہنچیں گے۔ انتظامیہ کی جانب سے تمام پروازوں کے مسافروں کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ وطن واپسی کے اس مرحلے کو خوشگوار اور سہل بنایا جا سکے۔

سیالکوٹ ایئرپورٹ پر حجاج کرام کی آمد کے موقع پر ان کے عزیز و اقارب بھی بڑی تعداد میں موجود تھے جنہوں نے اپنے پیاروں کا والہانہ استقبال کیا۔ ایئرپورٹ پر خوشی اور جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے جبکہ حجاج کرام نے حج کی سعادت حاصل کرنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔

مصدقہ خبریں، ذمہ دارانہ صحافت
QNN World

رنگ روڈ منصوبہ: گھروں اور روزگار کے تحفظ کے لیے آڈا اور ہپو گڑھا کے مکین سڑکوں پر نکل آئے

سیالکوٹ (کیو این این ورلڈ/شاہد ریاض)سیالکوٹ رنگ روڈ منصوبے کے مجوزہ روٹ کے خلاف آڈا، ہپو گڑھا اور ملحقہ علاقوں کے مکینوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے منصوبے پر نظرِ ثانی اور متبادل روٹ اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ احتجاج میں شہریوں، بزرگوں، مزدوروں، تاجروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور اپنے تحفظات کے حق میں نعرے بازی کی۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ رنگ روڈ منصوبے کے موجودہ روٹ کی وجہ سے سینکڑوں رہائشی مکانات، مساجد، دکانیں اور کاروباری مراکز متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس سے متعدد خاندان بے گھر اور ہزاروں افراد روزگار سے محروم ہو سکتے ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ ترقیاتی منصوبوں کی مخالفت نہیں کی جا رہی، تاہم ایسے منصوبے عوامی مفادات اور بنیادی انسانی حقوق کو مدنظر رکھ کر مکمل کیے جانے چاہئیں۔

احتجاجی شرکاء نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دور میں اگر ان کے گھروں اور کاروباروں کو نقصان پہنچا تو متاثرہ خاندان شدید مشکلات کا شکار ہو جائیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت منصوبے کے روٹ کا ازسرنو جائزہ لے اور ایسا متبادل راستہ اختیار کرے جس سے آبادیوں، عبادت گاہوں اور کاروباری مراکز کو کم سے کم نقصان پہنچے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ اگر منصوبے کے تحت زمین یا املاک کا حصول ناگزیر ہو تو متاثرین کو مارکیٹ ریٹ کے مطابق مناسب معاوضہ دیا جائے اور ان کی بحالی کے لیے جامع اور شفاف پالیسی مرتب کی جائے تاکہ کسی بھی خاندان کو معاشی یا سماجی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

QNN World Regional News Bulletin 1st June 2026

احتجاج کے دوران شرکاء نے حکومت پنجاب، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ عوامی تحفظات کو سنجیدگی سے سنا جائے اور متاثرہ علاقوں کے نمائندوں سے مشاورت کے بعد ایسا حل نکالا جائے جو ترقیاتی ضروریات اور شہری حقوق دونوں کے تقاضوں کو پورا کرے۔

مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات پر توجہ نہ دی گئی اور منصوبے کے مجوزہ روٹ پر نظرِ ثانی نہ کی گئی تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے تمام قانونی اور آئینی راستے اختیار کیے جائیں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے گی۔

مصدقہ خبریں، ذمہ دارانہ صحافت
QNN World

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے