
نیو یارک (کیو این این ورلڈ) بین الاقوامی سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے خلا کی گہرائیوں میں زمین کے حجم کا ایک ایسا نیا سیارہ دریافت کیا ہے جو ممکنہ طور پر انسانی رہائش کے قابل ہو سکتا ہے۔ آسٹریلیا، برطانیہ، امریکہ اور ڈنمارک کے ماہرین فلکیات پر مشتمل ٹیم نے اس سیارے کو "ایچ ڈی 137010 بی” (HD 137010 b) کا نام دیا ہے، جو ہمارے نظامِ شمسی سے تقریباً 150 نوری برسوں کے فاصلے پر واقع ہے۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق، اس سیارے کی دریافت کے لیے ناسا کی "کیپلر اسپیس ٹیلی اسکوپ” کے 2017 میں جمع کیے گئے ڈیٹا کا استعمال کیا گیا۔ یہ سیارہ ایک ایسے ستارے کے گرد گردش کر رہا ہے جو ہمارے سورج سے مشابہت رکھتا ہے، تاہم یہ سورج کے مقابلے میں کچھ ٹھنڈا اور مدھم ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سیارہ حجم میں زمین سے صرف 6 فیصد بڑا ہے اور اس کا اپنے ستارے کے گرد گردش کا دورانیہ 355 دن ہے، جو کہ زمین کے سال سے کافی حد تک مماثلت رکھتا ہے۔
سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اس سیارے پر انسانی رہائش کے قابل ماحول موجود ہونے کے 50 فیصد امکانات ہیں۔ ابتدائی مشاہدات سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی سطح کا درجہ حرارت ہمارے پڑوسی سیارے مریخ سے ملتا جلتا ہے اور یہ منفی 70 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔ اس سیارے کی موجودگی کا انکشاف اس وقت ہوا جب یہ مختصر وقت کے لیے اپنے ستارے کے سامنے سے گزرا، جس سے پیدا ہونے والی چمک کے سگنل کو نو آموز ماہرین نے پکڑا اور بعد میں اس پر باقاعدہ تحقیق کی گئی۔
اس اہم سائنسی تحقیق کے نتائج معروف جریدے "Astrophysical Journal Letters” میں شائع ہوئے ہیں۔ ماہرینِ فلکیات کے مطابق اگرچہ یہ سیارہ کائناتی اعتبار سے ہمارے نظامِ شمسی کے قریب تصور کیا جاتا ہے، تاہم موجودہ ٹیکنالوجی کے ذریعے وہاں تک پہنچنے میں انسانوں کو ہزاروں سال لگ سکتے ہیں۔ اس دریافت نے کائنات میں زندگی کی تلاش اور زمین جیسے دیگر سیاروں کی کھوج کے مشن کو ایک نئی جہت عطا کر دی ہے۔

انقرہ (کیو این این ورلڈ) ترکیہ نے خطے میں بڑھتے ہوئے جنگی خطرات کو ٹالنے کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے کی باقاعدہ پیشکش کر دی ہے۔ ترک وزارتِ خارجہ کے مطابق، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے دورہ انقرہ کے موقع پر ترک وزیرِ خارجہ حکان فدان واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہِ راست مکالمے کی بحالی اور تناؤ میں کمی کے حوالے سے اہم بات چیت کریں گے۔ دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان یہ ملاقات جمعہ کو متوقع ہے جس کا بنیادی مقصد سفارتی ذرائع سے تصادم کو روکنا ہے۔
ترک حکام کا کہنا ہے کہ انقرہ موجودہ بحرانی صورتحال میں سفارتی رابطوں کے ذریعے ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے تاکہ مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئی تباہی سے بچایا جا سکے۔ دوسری جانب، ترکیہ نے امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشے کے پیشِ نظر اپنی 530 کلومیٹر طویل سرحد کی سکیورٹی مزید سخت کرنے کے لیے ہنگامی منصوبوں پر غور شروع کر دیا ہے۔ ایک اعلیٰ ترک عہدیدار کے مطابق، اگر ایران پر حملہ ہوتا ہے اور وہاں کی انتظامیہ کمزور پڑتی ہے، تو ترکیہ سرحدی نگرانی کے لیے اضافی اقدامات اٹھائے گا۔
واضح رہے کہ امریکہ نے ایران میں حالیہ احتجاجات پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے نئی فوجی مداخلت کے امکان کو مسترد نہیں کیا ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کے سمندروں میں ایک طیارہ بردار بحری بیڑا بھی پہلے ہی تعینات کیا جا چکا ہے۔ نیٹو کا اہم رکن ہونے کے باوجود ترکیہ ماضی میں بھی ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کی مخالفت کرتا رہا ہے، کیونکہ ایران کے ساتھ اس کے گہرے تاریخی اور تجارتی روابط موجود ہیں۔
سرحدی دفاع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ترک ایران سرحد کے کچھ حصوں پر پہلے ہی 380 کلومیٹر طویل حفاظتی دیوار موجود ہے، تاہم حکام کا ماننا ہے کہ کسی بڑی فوجی کارروائی کی صورت میں پیدا ہونے والے انسانی بحران اور پناہ گزینوں کی آمد کو روکنے کے لیے موجودہ اقدامات ناکافی ثابت ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے ترک سکیورٹی فورسز کو الرٹ رہنے اور سرحدی علاقوں میں ہنگامی حکمت عملی وضع کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

لاہور (کیو این این ورلڈ) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھاٹی گیٹ میں ماں اور بیٹی کے سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے کے واقعے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے "مجرمانہ غفلت” قرار دیا ہے۔ اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ لاہور جیسے میٹروپولیٹن شہر میں اس قسم کا دلخراش واقعہ کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اب تک ٹیپا اور واسا کے ذمہ داران کے نام سامنے کیوں نہیں لائے گئے اور ملوث افراد کی گرفتاریاں کیوں عمل میں نہیں لائی گئیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے متاثرہ خاندان کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ متعلقہ کنٹریکٹر سے متاثرہ فیملی کو ایک کروڑ روپے بطور معاوضہ دلوایا جائے گا۔ انہوں نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی غفلت اور قتل میں کوئی فرق نہیں ہے۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ حادثے کے بعد کا ہر لمحہ کربناک تھا اور ریاست اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرنے والے افسران کو معاف نہیں کرے گی۔
میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ حادثے کی جگہ پر تعمیراتی کام جاری تھا لیکن وہاں حفاظتی انتظامات کا شدید فقدان پایا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ جائے وقوعہ پر اندھیرا تھا اور لائٹنگ کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا تھا، جبکہ ایک نہیں بلکہ کئی مین ہول کھلے چھوڑے گئے تھے۔ مریم نواز نے کہا کہ اگر وہاں روشنی اور مناسب بیریکیڈنگ ہوتی تو اس سانحے کو روکا جا سکتا تھا، مگر سائٹ پر موجود عملے نے انتہا درجے کی لاپرواہی برتی۔
مریم نواز نے مزید کہا کہ جاں بحق ہونے والی ماں اور بیٹی لاہور میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے آئی تھیں اور رکشے پر سوار ہوتے وقت اس حادثے کا شکار ہوئیں۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ محض پینافلیکس لگا کر سائٹ کو بند ظاہر کرنا کافی نہیں تھا، جن لوگوں نے اس خطرناک جگہ کو کھلا چھوڑا کیا ان کے اپنے گھروں میں بچے نہیں ہیں؟ انہوں نے واضح کیا کہ تعمیراتی مقامات پر بین الاقوامی معیار کے حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانا لازمی ہے اور اس معاملے میں کسی کو رعایت نہیں ملے گی۔
وزیراعلیٰ نے انتظامیہ کو حکم دیا کہ سیف سٹی اور سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے تحقیقات کو جلد مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی دور دراز کا علاقہ نہیں بلکہ لاہور کا دل ہے، جہاں ایسی سنگین کوتاہی انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام زیرِ تعمیر منصوبوں کا فوری سیکیورٹی آڈٹ کیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی اور شہری کی زندگی کو خطرے میں نہ ڈالا جا سکے۔

اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) وزیراعظم شہباز شریف اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں دونوں رہنماؤں نے تیزی سے بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس گفتگو کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے خطے میں پائیدار امن، سلامتی اور معاشی ترقی کے فروغ کے لیے مسلسل مذاکرات اور سفارتی ذرائع بروئے کار لانے کی اہمیت پر خصوصی زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان مشترکہ تاریخ، ثقافت اور عقیدے کے گہرے رشتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مسعود پزشکیان نے عزم کا اعادہ کیا کہ دوطرفہ تعاون کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے لیے ادارہ جاتی میکانزم اور اعلیٰ سطحی مشاورت کا سلسلہ مستقل بنیادوں پر برقرار رکھا جائے گا۔
وزیراعظم نے گفتگو کے دوران اس بات پر زور دیا کہ خطے کو درپیش موجودہ چیلنجز کا حل صرف باہمی تعاون اور پائیدار مذاکرات میں ہی پنہاں ہے۔ دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مشترکہ سرحدوں پر امن اور تجارتی روابط میں بہتری نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے، جس کے لیے مستقبل میں بھی مشترکہ حکمت عملی اپنائی جائے گی۔

لاہور (کیو این این ورلڈ) صوبائی دارالحکومت کے علاقے بھاٹی چوک میں ماں بیٹی کے سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے کے دلخراش واقعے کی ابتدائی رپورٹ مرتب کر لی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دینے کا حکم دیا ہے، جس کے بعد پولیس کو مقدمے کے اندراج کے لیے درخواست دے دی گئی ہے۔ اس افسوسناک واقعے میں 24 سالہ خاتون سعدیہ اور ان کی 10 ماہ کی کمسن بیٹی ردا فاطمہ جاں بحق ہو گئیں، جن کی لاشیں کئی گھنٹوں کے سرچ آپریشن کے بعد آؤٹ فال روڈ اور سگیاں کے قریب سے برآمد ہوئیں۔
فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ٹیپا انتظامیہ نے واقعے کے بارے میں پہلے غلط بریفنگ دی، تاہم سی سی ٹی وی فوٹیج اور متاثرہ خاتون کے شوہر کے بیان کے بعد سچائی سامنے آئی۔ رپورٹ کے مطابق اوپن اور غیر محفوظ مین ہول اس حادثے کا بنیادی سبب بنا، جہاں مانیٹرنگ ٹیم نے مجرمانہ غفلت برتی۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ انسانی جانوں کے ضیاع پر کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور پوری ٹیم کو فوری معطل کر کے انکوائری کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔
ڈی جی ایل ڈی اے نے وزیراعلیٰ کی ہدایت پر داتا دربار منصوبے پر کام کرنے والی پوری ٹیم کو معطل کر دیا ہے، جن میں پراجیکٹ ڈائریکٹر، ڈپٹی ڈائریکٹر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور سب انجینئر شامل ہیں۔ ٹیپا کی جانب سے تھانہ بھاٹی دروازہ میں دی گئی درخواست میں منصوبے کے ٹھیکیدار، پراجیکٹ منیجر اور سیفٹی انچارج کو نامزد کیا گیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سائٹ پر بیریکیڈنگ، وارننگ سائنز اور مین ہول کور فراہم نہ کرنا کنٹریکٹر کی ذمہ داری تھی، جس کی عدم موجودگی نے معصوم جانیں نگل لیں۔
تحقیقات کے دوران نجی کمپنی کو شو کاز نوٹس جاری کر دیا گیا ہے جبکہ ریزیڈنٹ انجینئر نیسپاک کی معطلی اور ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج سے ثابت ہوا کہ متاثرہ فیملی داتا دربار پر سلام کے بعد نکل رہی تھی کہ اندھیرے اور کھدائی کے باعث یہ حادثہ پیش آیا۔ پولیس نے پہلے قتل کے شک میں شوہر کو حراست میں لیا تھا، تاہم حقیقت سامنے آنے پر انہیں رہا کر دیا گیا۔
عوامی حلقوں نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ شہر بھر میں کھلے مین ہولز اور ادھورے ترقیاتی منصوبوں پر حفاظتی اقدامات کو فوری یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔ وزیراعلیٰ کی بنائی گئی ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی سربراہی میں کمیٹی 24 گھنٹے میں حتمی رپورٹ پیش کرے گی، جس کی روشنی میں مزید سخت قانونی اقدامات متوقع ہیں۔

اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی نجکاری سے متعلق اہم ترین مرحلہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت اسلام آباد میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران قومی ایئر لائن کی فروخت اور لین دین کے دستاویزات پر دستخط کیے گئے۔ اس اہم تقریب میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خصوصی شرکت کی، جہاں حکومت اور عارف حبیب کنسورشیم کے مابین ٹرانزیکشن کے دستاویزات کا تبادلہ کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر پوری قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل نہایت شفاف انداز میں بخوبی انجام کو پہنچا ہے۔ انہوں نے عارف حبیب اور ان کی ٹیم پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کے بہترین بزنس سفیر ہیں اور انہیں یقین ہے کہ یہ ٹیم قومی ایئر لائن کو دوبارہ اس کے کھوئے ہوئے سنہری مقام پر واپس لے جائے گی۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ نئی انتظامیہ کے تحت مسافروں کے لیے آرام دہ سفر، عزت اور حفاظت پی آئی اے کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
تقریب کے آغاز پر وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے اس سنگ میل کے حصول پر وزیراعظم اور آرمی چیف کی رہنمائی اور تعاون کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ لین دین حکومتی اصلاحاتی ایجنڈے کا ایک نمایاں حصہ ہے جس میں شفافیت کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت کنسورشیم مجموعی طور پر 180 ارب روپے (تقریباً 650 ملین ڈالر) کی خطیر سرمایہ کاری کرے گا، جو ایئر لائن کی بحالی میں اہم ثابت ہوگی۔
سرمایہ کاری کی تفصیلات بتاتے ہوئے محمد علی نے کہا کہ مجموعی رقم میں سے 125 ارب روپے براہِ راست پی آئی اے کے مالیاتی ڈھانچے میں لگائے جائیں گے، جبکہ 55 ارب روپے حکومت پاکستان کو ادا کیے جائیں گے۔ یہ گروتھ کیپیٹل فضائی بیڑے میں توسیع، سروسز کے معیار میں بہتری اور نجی شعبے کے جدید نظم و نسق کے نفاذ کے لیے استعمال کیا جائے گا تاکہ پی آئی اے ایک بار پھر عالمی سطح پر معتبر نام بن سکے۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں 60 کی دہائی کے عروج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک دور تھا جب دنیا بھر میں ’پی آئی اے گریٹ پیپل ٹو فلائی ود‘ کے بورڈز نظر آتے تھے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی انتظامیہ کی محنت اور حکومتی تعاون سے قومی ایئر لائن ایک بار پھر وہی مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔

واشنگٹن (کیو این این ورلڈ) عالمی اداروں میں کلیدی عہدوں پر فائز بھارتی شہریوں کی موجودگی اور ان کی حساس معلومات تک رسائی بین الاقوامی سطح پر ایک سنگین سیکیورٹی چیلنج بن کر ابھری ہے۔ بین الاقوامی نشریاتی ادارے کی تازہ رپورٹ کے مطابق، امریکی سائبر دفاعی ادارے "سائبر سیکیورٹی اینڈ انفراسٹرکچر سیکیورٹی ایجنسی” کے عبوری سربراہ مدھو گوتمکلا نے حساس سرکاری دستاویزات کو ایک عام "اے آئی ایپلیکیشن” پر اپ لوڈ کر دیا، جو کہ سرکاری قوانین کے تحت ممنوع تھا۔
اس واقعے کے منظرِ عام پر آنے کے بعد امریکی محکمہ داخلی سلامتی (DHS) میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور اس حوالے سے اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ مدھو گوتمکلا بھارتی نژاد ہیں اور ان کا تعلق بھارتی ریاست آندھرا پردیش سے ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں بلکہ طویل عرصے سے ایک مخصوص پیٹرن واضح ہو رہا ہے جس میں بھارتی نژاد افراد حساس ڈیٹا کی چوری یا جاسوسی میں ملوث پائے گئے ہیں۔
ماضی کے واقعات پر نظر ڈالی جائے تو اکتوبر 2025 میں بھی ایک بھارتی نژاد امریکی اسٹریٹجک ماہر ایشلی جے ٹیلس کو گرفتار کیا گیا تھا، جن کے قبضے سے ایک ہزار سے زائد ٹاپ سیکریٹ امریکی دفاعی دستاویزات برآمد ہوئی تھیں۔ اسی طرح 2023 میں قطر میں بھی بھارتی بحریہ کے آٹھ سابق افسران کو جاسوسی کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا، جس نے خلیجی ممالک میں بھارتی مداخلت کو بے نقاب کیا تھا۔
دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ بھارت ایک منظم اور سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت مغربی اور خلیجی ممالک کے کلیدی عہدوں پر اپنے شہریوں کو تعینات کروا رہا ہے تاکہ ان کے ذریعے حساس معلومات اور دفاعی منصوبوں تک رسائی حاصل کی جا سکے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے واقعات عالمی سائبر نظام اور دفاعی ڈھانچے کے لیے بڑا خطرہ ہیں، جس کا فوری تدارک ضروری ہے۔
ماہرین نے امریکہ سمیت تمام مغربی اور خلیجی ممالک کو مشورہ دیا ہے کہ وہ حساس سرکاری عہدوں پر فائز افراد کے پس منظر، ان کے آبائی ملک سے روابط اور مفادات کا سخت ترین جائزہ لیں۔ دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق، جب تک حساس عہدوں پر تقرری کے لیے سیکیورٹی کلیئرنس کے معیار کو مزید سخت نہیں کیا جاتا، تب تک اس قسم کے سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنا ممکن نہیں ہوگا۔

اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان کسی بھی "ابراہیمی معاہدے” کا حصہ نہیں بنے گا اور اس سے ملک کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایران کے خلاف طاقت کے استعمال اور اقتصادی پابندیوں کے سخت خلاف ہے اور ہمیشہ مسائل کے پرامن حل کا حامی رہا ہے۔
ترجمان نے بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس میں شامل نہیں ہوگا، تاہم وہ "بورڈ آف پیس” کا حصہ مشترکہ حکومتی رولز کے مطابق بنا ہے۔ انہوں نے ایران اور خطے میں منڈلاتے جنگ کے بادلوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ خطے میں امن بحال ہوگا اور تمام تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں گے۔
یورپ اور بھارت کے درمیان تجارتی معاہدوں کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے یورپ کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں اور دونوں کے درمیان تجارتی حجم 12 ارب یورو سے تجاوز کر چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے حال ہی میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات کی، جس میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے اور جاری منصوبوں کو وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔
سفارتی سرگرمیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایران اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے کیے، جبکہ وزیراعظم نے ورلڈ اکنامک فورم ڈیووس میں شرکت کر کے عالمی سربراہان سے ملاقاتیں کیں۔ ان دوروں کا مقصد ملک میں سرمایہ کاری، تجارتی فروغ اور عوامی رابطوں میں اضافہ کرنا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے دورے کے دوران ٹیلی کام کمپنی "اتصالات” کی پاکستان میں سرمایہ کاری پر بھی اہم بات چیت ہوئی۔
امریکی ٹریول ایڈوائزری کے حوالے سے دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات معمول کے مطابق ہیں اور امریکہ نے پہلے سے جاری بعض ایڈوائزریز واپس بھی لے لی ہیں۔ ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ قزاقستان کے صدر جلد پاکستان کا دورہ کریں گے، جس کے دوران مختلف مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط متوقع ہیں، تاہم ریلوے منصوبے پر فی الحال کوئی نئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

لاہور (کیو این این ورلڈ) ٹی 20 سیریز کے پہلے ٹکرائو میں پاکستان نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے آسٹریلیا کو 22 رنز سے شکست دے دی۔ اس فتح کے ساتھ ہی قومی ٹیم نے تین میچوں کی سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل کر لی ہے۔ قذافی سٹیڈیم میں کھیلے گئے اس میچ میں شائقین کرکٹ کو بہترین مقابلہ دیکھنے کو ملا۔
پاکستان کی جانب سے دیے گئے 169 رنز کے ہدف کے تعاقب میں آسٹریلوی ٹیم مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر صرف 146 رنز بنا سکی۔ مہمان ٹیم کی جانب سے کیمرون گرین 36 رنز بنا کر نمایاں رہے، جبکہ ٹریوس ہیڈ نے 23 اور میٹ رینشا نے 15 رنز بنائے۔ دیگر کھلاڑیوں میں جوش فلپ 12، مچل اوون 8، میتھیو شارٹ اور جیک ایڈورڈز 5، 5 رنز ہی جوڑ سکے۔
قومی باؤلرز نے نپی تلی باؤلنگ کے ذریعے آسٹریلوی بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہ دیا۔ پاکستان کی جانب سے صائم ایوب اور ابرار احمد نے بہترین کارکردگی دکھاتے ہوئے 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، جبکہ شاداب خان اور محمد نواز نے ایک ایک وکٹ حاصل کر کے اپنی ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔
اس سے قبل پاکستان کے کپتان سلمان علی آغا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ قومی ٹیم نے مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 168 رنز بنائے۔ اگرچہ اننگز کا آغاز مایوس کن رہا اور صاحبزادہ فرحان پہلی ہی گیند پر آؤٹ ہو گئے، لیکن صائم ایوب اور کپتان سلمان علی آغا نے 74 رنز کی ذمہ دارانہ شراکت قائم کر کے ٹیم کو سنبھالا دیا۔
پاکستان کی جانب سے صائم ایوب نے 40 اور سلمان علی آغا نے 39 رنز کی اننگز کھیلی۔ سابق کپتان بابر اعظم نے 24 اور عثمان خان نے 18 رنز بنائے۔ دیگر بلے بازوں میں فخر زمان 10 رنز بنا سکے جبکہ شاداب خان اور شاہین شاہ آفریدی خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے۔ آسٹریلیا کی طرف سے ایڈم زیمپا نے تباہ کن باؤلنگ کرتے ہوئے 4 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔

کراچی (کیو این این ورلڈ) سندھ حکومت نے سانحہ گل پلازہ کی شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ صوبائی دارالحکومت میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اس افسوسناک واقعے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ہے، جس پر سندھ کابینہ نے فوری طور پر ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی تھی تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
شرجیل میمن نے انکشاف کیا کہ جس وقت عمارت میں آگ لگی، وہاں تقریباً 2 ہزار سے 2500 افراد موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گل پلازہ کا پہلے بھی دو مرتبہ سیفٹی آڈٹ ہو چکا تھا، اس کے باوجود یہ واقعہ پیش آنا سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ واقعے کے پیچھے چھپی ہر کوتاہی کا محاسبہ کیا جائے۔
صوبائی وزیر نے غفلت برتنے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ڈائریکٹر سول ڈیفنس اور ایڈیشنل کنٹرول سول ڈیفنس ضلع جنوبی کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ ان افسران کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت سخت محکمانہ کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسی لاپرواہی کا سدباب ہو سکے۔
پریس کانفرنس کے دوران شرجیل میمن نے مزید بتایا کہ آگ بجھانے کے عمل کے دوران فائر ٹینڈرز کو پانی کی فراہمی میں تاخیر کی وجہ سے امدادی کارروائیاں شدید متاثر ہوئیں۔ اس کوتاہی کی ذمہ داری عائد کرتے ہوئے چیف انجینئرز بلخ، انچارج ہائیڈرنٹس اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے ہائیڈرنٹ انچارج کو بھی عہدوں سے معطل کر دیا گیا ہے۔
سینئر صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ سندھ حکومت کسی بھی سیاسی جماعت کے دباؤ میں نہیں آئے گی اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم معزز چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو خط لکھ رہے ہیں جس میں درخواست کی جائے گی کہ اس سانحے کی تحقیقات ہائی کورٹ کے حاضر سروس جج سے کرائی جائیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔